Monday, 4 January 2021

ازدواجی ‏زندگی ‏کے ‏سنہری ‏اصول ‏

ازدواجی زندگی کے سنہرے اصول 
*ایک صحابی اپنی بیوی کی کسی بات کی وجہ سے بڑے تنگ تھے۔ وہ صحابی سوچنے لگے کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ اپنی بیوی کو سبق سکھایا جائے۔سوچا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلتا ہوں۔ وہ ذرا جلالی طبیعت کے ہیں، ان سے جا کر میں بات کرتا ہوں کہ وہ ذرا میری بیوی کی طبیعت سیٹ کرنے کا کوئی طریقہ بتائیں گے۔چنانچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ جب وہاں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ان سے پردے میں بات کر رہی ہیں۔مگر بات کرتے ہوئے ان کا لہجہ اونچا ہے اور وہ تیزی سے بات کر رہی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ذرا تسلی کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی بات کو سن رہے ہیں۔جب اُن صحابی نے دیکھا کہ میں تو اس مقصد کے حل کے لئے یہاں آیا تھا ۔ یہاں تو پہلے ہی آگے سے باتیں سنی جا رہی ہیں۔وہ واپس آنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےپوچھا کہ بھئی واپس کیوں جا رہے ہو...؟عرض کیا...!اے امیر المومنین...!جس کام کے لئے آیا تھا وہی کام یہاں ہوتے دیکھا تو میں نے سوچا میں واپس ہی جاؤں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور کہا کہ دیکھو کہ یہ میری بیوی بھی ہے کہ میرے لیے باعث سکون ہے اور میرے لئے باورچن بھی ہے،گھر میں سارا دن میرے لئے کھانے دانے پکانے میں لگی رہتی ہے،میرے لئے دھوبن بھی ہے، میرے کپڑوں کو بھی صاف کرتی ہے، میرے گھر کی صفائی کرنے والی بھی ہے۔جب یہ گھر کی باورچن بھی بن جاتی ہے، دھوبن بھی بن جاتی ہےمیرے لئے جہنم سے آڑ بهی ہے. .، اتنے قربانیاں میرے لئے دے رہی ہے تو کیا اس کی بات میں تحمل مزاجی سے سن نہیں سکتا۔وہ صحابی کہنے لگے آپؓ نے میرے دل کی گرہ کھول دی۔ جب میری بیوی مری خاطر اتنی قربانیاں دے رہی ہے تو میں بھی اس کی بات کو تحمل مزاجی سے سننے کی عادت ڈالوں گا۔(سبحان اللہ )*

*مثالی ازدواجی زندگی کے " سنہری اصول “ سے اقتباسں_*

Thursday, 20 August 2020

دلوں ‏میں ‏کیل ‏کیسے ‏ٹھاکرے ‏ہیں

دل کی باتیں
*لوگوں کے دلوں میں کیلیں نہ ٹھونکے* 

ایک آدمی کو غصہ بہت آتا تھا غصے میں بے قابو ہو کر وہ برا بھلا کہتا جب غصہ اترتا تو اسے پشیمانی ہوتی وہ غصے پر قابو پانا چاہتا تھا لیکن کامیاب نہ ہوتا ایک دن اس نے سنا کہ دوسرے گاؤں میں ایک عالم رہتا ہے لوگوں کو مسئلوں کے حل بتاتا ہے اس نے سوچا چلو میں بھی اپنا مسئلہ پیش کر کے دیکھتا ہوں شاید کچھ تدبیر نکل آئے وہ اس عالم کے پاس گیا اور اُن کو بتایا: "مجھے بے حد غصہ آتا ہے" عالم نے کہا: "جب تمہیں غصہ آئے تو تم جنگل میں جا کر درخت میں ایک کیل ٹھونک دیا کرو" آدمی نے کہا: "یہ کونسا حل ہے ؟" عالم نے کہا: "تم ایسا کرو تو سہی" آخر اس نے یہی کیا اسے جب بھی غصہ آتا، وہ جنگل کی طرف دوڑتا اور تیزی سے کیلیں درخت میں ٹھونکتا جاتا آخر دن گذرتے گئے اسے جب غصہ آتا، وہ یہی عمل دہراتا آخر ایک دن اس کا غصہ کم ہو کر ختم ہو گیا اور اس نے جنگل جانا چھوڑ دیا ایک دن وہ دوبارہ عالم کے پاس گیا اور کہا: "آپ کی بات پر عمل کر کے میرا غصہ ختم ہو گیا ہے" عالم نے کہا: "مجھے اس جگہ پر لے چلو جہاں تم نے کیلیں ٹھونکی ہیں" وہ دونوں وہاں چلے گئے عالم نے دیکھا کہ ایک درخت تقریباً آدھا کیلوں سے بھرا پڑا ہے عالم نے کہا: "اب ان کیلوں کو نکالو" اس نے بہت مشکل سے وہ کیلیں نکال لیں تو دیکھا کہ وہاں چھوٹے بڑے بے شمار سوراخ تھے عالم نے کہا: "یہ وہ سوراخ ہیں جو تم غصے میں آ کر لوگوں کے دلوں میں کرتے تھے دیکھو کیل تو نکل گئے مگر سوراخ باقی ہیں" وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اس نے اللّٰه اور اس کے بندوں سے معافی مانگی اور عالم کا شکریہ ادا کیا جس نے اسے آئینہ دکھایا•

سبق:
*ھمیں بھی چاہیے کہ بولتے وقت دیکھ لیا کریں کہ ہم  لوگوں کے دلوں میں کہیں کیلیں تو نہیں ٹھونک رہے ہیں اگر وہ کیلیں نکل بھی گئیں تو نشان باقی رہ جائیں گے.*

نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

امن ‏قائم ‏کرنا ‏ہے ‏تو ‏انصاف ‏کرو

امن ایک دنیاوی ضرورت
بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، "تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟"

کمہار نے جواب دیا کہ "جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بسی اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔"

بادشاہ نے کہا، "کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟"

کمہار نے حامی بھر لی، بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔ 

کمہار نے فیصلہ سنایا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"

جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ "جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔"

کمہار نے دوبارہ کہا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"

اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ "جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔"

کمہار بولا، "چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور شفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔"

اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔

ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں گی!

Monday, 27 July 2020

احادیث ‏مبارکہ

احادیث
امن کی جگہ.
وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا  ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ  وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ  لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ  السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾

 اور یہ کہ ہم نے اس گھر ﴿کعبے﴾ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو ،  اور ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو  ۔  
(سورہ البقرہ 125)

(درس حدیث)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس گھر  ( کعبہ )  کا حج کیا اور اس میں نہ «رفث» یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ 
(صحیح بخاری 1819)

Tuesday, 9 October 2018

(8) سنہری باتیں



(8) سنہری باتیں   

 ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ‘ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ‘ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ  ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ‘


ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﻣﻠﺘﺎ ﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺯﻕ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔  ﺁﭖ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺑﻠﯿﻮﮞ‘ ﮐﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ‘ ﺩﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﭽﻦ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﮐﺒﻮﺗﺮ‘ ﮐﻮﮮ‘ ﻣﻮﺭ‘ ﺑﻠﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﻟﻨﮕﺮ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ‘


ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔  ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﺒﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮏ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔا ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺮﮨﻨﮕﯽ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﺩﮮ ﮔﺎ‘


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﭩﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ‘


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻻ ﻣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﯾﮧ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ‘ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻮﺍﺿﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻻﻟﭻ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ‘


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺍﻣﭙﺮﻭﻭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺍﺀ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﺁﭖ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ‘


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮞ تو ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻠﯽ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮍﮎ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﮮ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺑﻨﺪ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﮐﮭﺪﻭﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻮﭨﺮ ﻟﮕﻮﺍ ﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﻟﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺁﮒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﺮ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.


ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﻻﺋﺒﺮﯾﺮﯼ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ.


ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ‘ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺳﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﻤﺮﻭﺩ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮯ ‘ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺁﺯﻣﺎ ﻟﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ گا.

مهمان نوازی کرنا رزق لاتی ہے

کسی کی برائی   نه کرو الله تمهاری پرده پوشی کرے گا

کبهی کسی سوالی کو نه جھڑکو الله آپ کو متمول اور غنی کرد یگا

هر وقت الله پر هی بهروسه کرو کبهی مایوسی نہیں هو گی الله هر حاجت پوری کر یگا

معاف کیا کرو کامیابی هر وقت هو گی 

Saturday, 6 October 2018

سنہری باتیں(7)


                           (7) سنہری باتیں 
           

*1۔ اعمال  کا  دارومدار   نیت   پر  ہے* 
*(بخاری ، مسلم)*

*2۔  مسلمان  وہ  ہے  جس  کے  ہاتھ اور زبان*
  *سے  دوسرا  مسلمان  محفوظ  ہو* 

*( مسلم)*
*3۔ چغل  خور  جنت  میں  داخل  نہ  ہوگا*

*( بخاری ، مسلم)*

*4۔ پاکیزگی  ایمان  کا  حصہ  ھے*
  *(مسلم   بخاری)*
*5۔  آدمی  کا  چچا  اس  کے  باپ  کی   مانند  ہے*

*( بخاری ،  مسلم)*

*6۔ میں  اور  یتیم  کی  کفالت  کر نے    والا  جنت  میں  ساتھ  ھوں  گے* 
*( بخاری)*

*7۔ تم  میں  اچھا  وہ  ہے  جس  کا  اخلاق  اچھا  ہو*
*( بخاری ، مسلم)*
*8۔ دنيا   مومن   کے لیے   قید خانہ اور  کافر  کے لیے  جنت  ہے*
*( مسلم)*
*9۔ جو   رحم   نہ  کرے   اللہ  اس  پر  رحم  نہیں  کرتا*
*(بخاری)* 

*10۔ مسلمان   اور  کافر   کے  درميان   نماز   فرق   کرتی  ہے*

  *(مسلم)*
*11۔ رشتے   داری   کاٹنے   والا  جنت   میں   داخل   نہ  ہو گا*
*(بخاری)*     *(مسلم)*

*12۔ حیا  ایمان  کا  حصہ  ہے*

*(بخاری)*     *(مسلم)* 
*13۔ اللہ   کے   نزدیک    سب   سے   پسندیدہ   *عمل   وہ    ہے    جو    داٸمی   ہو   اگر   چہ   تھوڑا  ہو*

*(بخاری)*     *(مسلم )*
*14۔  جب   تم    حیا    نہ    کرو    تو    جو    چاہے   کرو*  
*(بخاری)*    *(مسلم)*


*15۔ مسلمان    مسلمان    کا  بھاٸ    ہے*

*(مسلم)*
*16۔ مومن   نہ   پاک    نہیں   ہوتا*
  
*(مسلم  ، بخاری)*

*17۔ اس   گھر   میں   رحمت   کے   فرشتے   نہیں   آتے   جس  گھر  میں   کتا  یا   تصویر  ہو*
*(بخاری ، مسلم)*
*18۔ کسی   پر   ظلم   قیامت  کے دن   اندھیروں   کا   سبب  ہو گا*
  *(مسلم)*
*19۔ ٹخنوں   کے  نیچے   جتنا  کپڑا ہو گا  اتنی   جگہ   جہنم  میں جاٸیگی*
*(بخاری)* 

*20 ۔ کسی   مسلمان   کے لیے  جاٸز   نہیں   کہ  اپنے     مومن  بھاٸ    سے  تین  دن   ناراض   رہے*

  *(مسلم)*
*21۔ اللہ   کے   نزدیک   پسندیدہ جگہ   مسجد  ہے*
*(مسلم)*
*22۔ اپنے   قریب    المرگ   لوگوں   کو   لا  الہ  الا  اللہ   کی   تلقين     کرو*
*(بخاری)*
*23۔ تم   میں   سب   سے   بہتر  وہ   ہے   جو    قرآن  پڑھتا   ہے  اور  پڑھاتا   ہے*
  
*(بخاری)*

*24۔  سورۃ  قل ھو اللہ احد   ایک  تہاٸی   قرآن    کے   برابر  اجر  رکھتی   ہے* 
   
*(بخاری)*

*25۔ دین   سراسر   خیرخواہی  کا  نام    ہے* 
*(مسلم)*
*26۔  ہر   نیک    بات    صدقہ  ہے* 
*(بخاری ،  مسلم)*   
*27۔ میں    ٹیک    لگا    کر    کھانا    پسند    نہیں     کرتا*
  
*(مسلم)*

*28۔  موذن   قیامت   کے    دن   لمبی    گردنوں    والے    ہونگے   عزت   کی  وجہ   سے*  

*(مسلم)*

*29۔  راستوں    پر    بیٹھنے   سے   بچو*  

*(بخاری)*

*30۔  زمانے    کو    گالی   نہ   دو*
*(مسلم)*
*31۔  جب   تم   میں   سے   کوٸی     کھانا    کھاٸے    تو    داٸیں    ہاتھ    سے     کھاٸے*

*(مسلم)*

*32۔  قبروں    کو    پکا    کرنے   سے    منع    فرمایا*
*(بخاری)*
*33۔ اللہ    لعنت    کرے     اس   پر     جو     ماں   باپ    پر    لعنت     کرے*
*(مسلم)*
*34۔ دینے     والا     ہاتھ    لینے    والے    ہاتهوں     سے    بہتر    ہے*
*(مسلم)*
*35۔ مسلمانوں    کو     گالی    دینا     کبیرہ    گناہ    ہے     اور  قتل    کرنا     کفر   ہے*   
*(بخاری  ، مسلم)*
*36۔   مظلوم     کی     بددعا  سے     بچو*   
*(بخاری)*
*37۔   جنگ    دھوکہ     دہی   کا    نام    ہے*   
*(مسلم ،  بخار ی)*
*38۔   بےشک     اللہ     خوبصورت       ہے     اور    خوبصورتی    کو    پسند      کرتا  ہے*    
*(مسلم)*
*39۔  جس    نے     ہمیں     ملاوٹ    والی     چیز     دی    وہ     ہم     میں     سے      نہیں*   
*(مسلم)*
*40۔ نماز    روشنی     ہے*  
*(مسلم)*