(4)سنہری باتیں
سب سے بڑا گناہ وہ ہے جو کرنے والے کے لیے چھوٹا ہو۔
اُس خُدا سے ڈرتے رہو جس کی صفت یہ ہے اگر تم کہو تو وہ سنتا ہے اور اگر دل میں رکھو تو وہ جانتا ہے۔
دوست وہ رکھو جو سونے کی طرحہو نا کہ شیشے کی طرحکیونکہ شیشہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور سونے کے جتنے بھی ٹکڑے کیوںنہ کر دو اُس کی قیمت کبھی کم نہیںہوتی۔
کبھی کسی کو یہ مت کہو کہ تم مجھے یاد رکھنا تم اگر یاد رکھنے کی قابل ہوئے تو یقینا یاد رہ جائو گے۔
جس سے محبت ہو اُس کو پابند نہ کرو بلکہ اُس سے پیار ہی اس قدر کرو کہ وہ تمہارا پابند ہو جائے۔
جانے والے کو کبھی نہ روکو اور آنے والے کو ویل کم کہو کیونکہ جانے والے روکنے سے بھی نہیں رُکتے اور آنے والے روز روز نہیں آتے۔
زندگی مُسکرا کے بسر کرو کیونکہ دنیا رونے والوںکے ساتھ نہیںروتی۔
اخلاق وہ موتی ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہیںہوتی مگر اس سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔
اپنے دُشمن کو ہزار موقعے دو کہ وہ تمہارا دشمن بن جائے مگر اپنے دوست کو ایک موقع بھی مت دو کہ وہ تمہارا دشمن بن جائے۔
لوگوںسے یاد نہ رکھنے کا شکوہ مت کرو کیونکہ جو اپنے رَب کو بھول سکتا ہے وہ سب کو بھول سکتا ہے۔
علم کا ایک قطرہ جہالت کے سمندر سے بہتر ہے اور عمل کا ایک قطرہ علم کے سمندر سے بہتر ہے۔

No comments:
Post a Comment